1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1305. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ...

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1305.

حضرت ابن عمر ؓ  سے روایت ہے ،وہ اپنے والد محترم حضرت عمر ؓ  سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا:’’میت کو اپنی قبر میں اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘ عبدان کی عبدالاعلیٰ نے متابعت کی ہے اور آدم ؑ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے:’’میت کو زندوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتا ہے۔‘‘

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4263. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِاليَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ: بِضْعٌ، وَإِمَّا قَالَ: فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4263.

حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ یمن میں تھے جب ہمیں نبی ﷺ کی (مکہ سے) روانگی کی اطلاع ملی۔ ہم بھی ہجرت کر کے آپ کی طرف چل پڑے۔ ایک میں اور دو میرے بھائی۔ میں سب سے چھوٹا تھا۔ بھائیوں میں سے ایک کا نام ابو بردہ اور دوسرے کا نام ابو رہم تھا۔ انہوں نے کہا: ہمارے ساتھ ہماری قوم کے پچاس سے کچھ زیادہ یا انہوں نے کہا: تریپن (53) یا باون (52) افراد اور بھی تھے۔ ہم سب کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کی سرزمین حبشہ میں جا اتارا۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ سے ہوئی اور ہم نے ان کے پاس ہی قیام کیا۔ پھر ہم سب اکٹھے رو...

5 سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ

صحیح

1847. أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنُحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ فَبَكَى ثُمَّ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا...

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

1847.

حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے مجھے خبر دی کہ (جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے تو) حضرت ابوبکر صدیق ؓ سنح مقام پر واقع اپنے گھر سے گھوڑے پر آئے (تاکہ جلدی پہنچ سکیں) یہاں تک کہ وہ گھوڑے سے اترے اور مسجد میں داخل ہوئے اور کسی سے بات چیت نہیں کی حتیٰ کہ حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس گئے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انھوں نے آپ کے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر جھک کر آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر کہا: میرا باپ آپ پر قربان! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو دفعہ موت طاری نہیں کرے گا۔ جو موت آپ کے لیے مقدر تھی، وہ آپ کو ...