صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد صحيح البخاري صحيح مسلم سنن أبي داؤد جامع الترمذي سنن النسائي سنن ابن ماجه مُسند أحمد 10 نتائج حاصل کریں 25 نتائج حاصل کریں 50 نتائج حاصل کریں 100 نتائج حاصل کریں مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 5 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 5 1 صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 1305. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ... صحیح بخاری: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 1305. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے ،وہ اپنے والد محترم حضرت عمر ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا:’’میت کو اپنی قبر میں اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘ عبدان کی عبدالاعلیٰ نے متابعت کی ہے اور آدم ؑ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے:’’میت کو زندوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتا ہے۔‘‘... 2 صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 4263. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِاليَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ: بِضْعٌ، وَإِمَّا قَالَ: فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَ... صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 4263. حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ یمن میں تھے جب ہمیں نبی ﷺ کی (مکہ سے) روانگی کی اطلاع ملی۔ ہم بھی ہجرت کر کے آپ کی طرف چل پڑے۔ ایک میں اور دو میرے بھائی۔ میں سب سے چھوٹا تھا۔ بھائیوں میں سے ایک کا نام ابو بردہ اور دوسرے کا نام ابو رہم تھا۔ انہوں نے کہا: ہمارے ساتھ ہماری قوم کے پچاس سے کچھ زیادہ یا انہوں نے کہا: تریپن (53) یا باون (52) افراد اور بھی تھے۔ ہم سب کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کی سرزمین حبشہ میں جا اتارا۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ سے ہوئی اور ہم نے ان کے پاس ہی قیام کیا۔ پھر ہم سب اکٹھے رو... 3 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ حکم : صحیح 935. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُمَيٍّ صحیح مسلم: کتاب: نماز کے احکام ومسائل () مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام) 935. سہیل نے اپنے والد (ابو صالح) سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے (مذکورہ بالا راوی) سمی کی حدیث کی مانند روایت کیا۔ 4 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجَنَائِزِ حکم : صحیح 3122. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ... سنن ابو داؤد: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام) 3122. سیدنا عبید بن خالد سلمی ؓ سے روایت ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے انہوں (مسدد) نے ایک بار نبی کریم ﷺ سے اور ایک بار عبید سے روایت کیا: ”اچانک موت ناراضی کی پکڑ ہے۔“ 5 سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ حکم : صحیح 1847. أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنُحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ فَبَكَى ثُمَّ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا... سنن نسائی: کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام) 1847. حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے مجھے خبر دی کہ (جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے تو) حضرت ابوبکر صدیق ؓ سنح مقام پر واقع اپنے گھر سے گھوڑے پر آئے (تاکہ جلدی پہنچ سکیں) یہاں تک کہ وہ گھوڑے سے اترے اور مسجد میں داخل ہوئے اور کسی سے بات چیت نہیں کی حتیٰ کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انھوں نے آپ کے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر جھک کر آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر کہا: میرا باپ آپ پر قربان! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو دفعہ موت طاری نہیں کرے گا۔ جو موت آپ کے لیے مقدر تھی، وہ آپ کو ... مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 5 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 5