1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2618. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ جَاءَ مَالُ البَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا - ثَلاَثًا»، فَلَمْ يَقْدَمْ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ، فَلْيَأْتِنَا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَنِي فَحَثَى لِي ثَلاَثًا...

صحیح بخاری:

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2618.

حضرت جابر  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: مجھ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اگر بحرین سے مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا اور اتنا دوں گا۔‘‘ لیکن بحرین سے مال آنے سے پہلے ہی نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی۔ پھر حضرت ابو بکرصدیق  ؓ نے منادی کرائی کہ نبی کریم ﷺ نے جس سے کوئی وعدہ کیا ہویا آپ پر اس کا کوئی قرض ہوتو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں گیا اوربتایا کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے وعدہ کیا تھا تو انھوں نے مجھے تین لپ بھر کردیے۔

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطَّلاَقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5382. حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ، وَلاَ نَطَّيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ، إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا، فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5382.

سیدہ ام عطیہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا: ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوائے خاوند کے کیونکہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے نیز دوران سوگ میں نہ ہم سرمہ لگاتیں نہ خوشبو استعمال کرتیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا ہی پہنتیں۔ ہاں وہ کپڑا استعمال کرنے کی اجازت تھی جس کا دھاگا بننے سے پہلے ہی سے رنگ دیا ہو۔ ہمیں اس کی بھی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض سے پاک ہوتی تو اظفار کی تھوڑی سے کستوری استعمال کرے، نیز ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے روکا جاتا تھا ابو عبداللہ (حضرت امام بخاری ؓ ) نے فرمایاٰ: ''القسط'' اور

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجُمُعَةِ

صحیح

2056. و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

2056.

قتیبہ بن سعید اور اسحاق بن ابراہیم میں سے قتیبہ نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی سفیان نے عمرو سے، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سےسنا،وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ ﷺ جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ تو آپﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم نے نماز پڑھ لی؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اٹھو اور دو رکعتیں پڑھ لو۔‘‘ قتیبہ کی حدیث میں (فَصَلِّ رَكعَتَين کے بجائے) صَلِّ رَكعَتَين (دو رکعتیں پڑھو)ہے۔

...