2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّرِكَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2503. حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَفَّتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا بَقَاؤُكُمْ بَعْدَ إِبِلِكُمْ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادِ فِي النَّاسِ فَيَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَبُسِطَ لِذَلِكَ نِطَعٌ وَجَعَلُوهُ عَلَ...

صحیح بخاری:

کتاب: شراکت کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2503.

حضرت سلمہ بن اکوع  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے نے کہا کہ ایک دفعہ لوگوں کا سامان خورو نوش ختم ہو گیا اور وہ محتاج ہو گئے تو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے انہیں اجازت مرحمت فرمائی۔ پھر ان لوگوں سے حضرت عمر  ؓ ملے تو انھوں نے ان سے ماجرا بیان کیا۔ حضرت عمر  ؓ نے فرمایا: اونٹوں کے بعد تمھاری زندگی کا انحصار کس پر ہو گا؟ اس کے بعد حضرت عمر  ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!اونٹ ذبح کرنے کے بعد ان کی زندگی کیسے گزرے گی؟آپ نے فرمایا: ’’لوگوں میں اعلان کرو کہ وہ اپنا اپنا...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّرِكَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2522. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، وَجَبَ عَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ كُلَّهُ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ قَدْرَ ثَمَنِهِ، يُقَامُ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَّتَهُمْ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ المُعْتَقِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: شراکت کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2522.

حضرت عبداللہ بن عمر  ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس شخص نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تواس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کُل آزاد کرائے۔ اگر اس کے پاس کسی عادل کے اندازے کے مطابق قیمت موجود ہے تو اس میں شرکاء کو ان کے حصوں کے مطابق قیمت دے دی جائے اور آزاد کردہ غلام کا راستہ چھوڑ دیاجائے۔‘‘

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّرِكَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2523. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ، أُعْتِقَ كُلُّهُ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِلَّا يُسْتَسْعَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: شراکت کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2523.

حضرت ابوہریرہ  ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو وہ کُل کا کُل آزاد ہوجائے گا بشرط یہ کہ آزاد کرنے والے کے پاس اور مال ہو، بصورت دیگر غلام سے کہا جائے گا کہ تم محنت کرو لیکن اس سلسلے میں اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے۔‘‘

...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّرِكَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2524. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالاَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالحَجِّ، لاَ يَخْلِطُهُمْ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ القَالَةُ قَالَ عَطَاءٌ: فَقَالَ جَابِرٌ: فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى، وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ جَابِرٌ بِكَفِّهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ...

صحیح بخاری:

کتاب: شراکت کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2524.

حضرت جابر  ؓ  اور حضرت ابن عباس  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے جبکہ لوگوں نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا۔ ان کی اس کے ساتھ کوئی اور نیت نہ تھی۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سے عمرے کے احرام میں بدل لیں تو ہم نے اس کو عمرے کے احرام میں بدل ڈالا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ (عمرہ کرنے کے بعد) ہم احرام کھول دیں اور اپنی بیویوں کے بارے میں پابندیوں سے آزاد ہوجائیں۔ اس پر لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ عطا کہتے ہیں کہ حضرت جابر  ؓ نے کہا: ہم میں...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّرِكَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2525. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالاَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالحَجِّ، لاَ يَخْلِطُهُمْ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ القَالَةُ قَالَ عَطَاءٌ: فَقَالَ جَابِرٌ: فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى، وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ جَابِرٌ بِكَفِّهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ...

صحیح بخاری:

کتاب: شراکت کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2525.

 

حضرت جابر  ؓ  اور حضرت ابن عباس  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے جبکہ لوگوں نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا۔ ان کی اس کے ساتھ کوئی اور نیت نہ تھی۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سے عمرے کے احرام میں بدل لیں تو ہم نے اس کو عمرے کے احرام میں بدل ڈالا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ (عمرہ کرنے کے بعد) ہم احرام کھول دیں اور اپنی بیویوں کے بارے میں پابندیوں سے آزاد ہوجائیں۔ اس پر لوگوں ...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2553. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يَقْبِضَ إِلَيْهِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، قَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الفَتْحِ، أَخَذَ سَعْدٌ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَ مَعَهُ بِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ ...

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2553.

حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص  ؓ کو وصیت کی تھی کہ وہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا اپنے قبضے میں لے لے، عتبہ نے کہا: بلاشبہ وہ میرا بیٹا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے وقت مکہ مکرمہ تشریف لائے تو حضرت سعد  ؓ نے زمعہ کی لونڈی کا بیٹا پکڑ لیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے۔ ان کے ہمراہ عبد بن زمعہ بھی آئے۔ حضرت سعد  ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ !یہ میرا بھتیجا ہے۔ بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ اس کابیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ !یہ میرا بھائی اور زمعہ کا بیٹا ہے، اس...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ

صحیح

1501. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً» قَالَ: «وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1501.

عبدالاعلی نے معمر سے، انھوں نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا، آپﷺ نے فرمایا: ’’سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ): ’’اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے‘‘...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ

صحیح

1501. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً» قَالَ: «وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1501.

عبدالاعلی نے معمر سے، انھوں نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا، آپﷺ نے فرمایا: ’’سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ): ’’اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے‘‘...

10 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ

صحیح

1501. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً» قَالَ: «وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1501.

عبدالاعلی نے معمر سے، انھوں نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا، آپﷺ نے فرمایا: ’’سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ): ’’اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے‘‘...