صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد صحيح البخاري صحيح مسلم سنن أبي داؤد جامع الترمذي سنن النسائي سنن ابن ماجه مُسند أحمد 10 نتائج حاصل کریں 25 نتائج حاصل کریں 50 نتائج حاصل کریں 100 نتائج حاصل کریں مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 7 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 7 1 صحيح البخاري: كِتَابُ الحَوَالاَتِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 2308. حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا لَا قَالَ فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قِيلَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ تَرَكَ شَيْئًا... صحیح بخاری: کتاب: حوالہ کے مسائل کا بیان () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 2308. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے عرض کیا: آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ کیا اس پر کوئی قرض ہے؟‘‘ لوگوں نےکہا: کوئی نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟‘‘ لوگوں نےعرض کیا: نہیں تو آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !اس پر نماز جنازہ پڑھیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ آیا اس کے ذمے قرض ہے؟‘‘ بتایا گیا: ہاں (یہ قرض دار ہے) آپ نے پوچھا: &rs... 2 صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 2540. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ يُعْتَقُ» صحیح بخاری: کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 2540. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس نے کسی ایسے غلام کو آزاد کیا جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھا تو اگر آزاد کرنے والا صاحب حیثیت ہے تو غلام کی قیمت لگا کر اس کے ذمے کی جائے گی، پھر وہ غلام آزادہوگا۔‘‘ 3 صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 2608. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ الأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ العَبَّاسِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ»، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَذَكَرْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي: وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْ... صحیح بخاری: کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 2608. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انھو نے فرمایا: جب نبی کریم ﷺ کی بیماری شدت اختیار کرگئی اور تکلیف سخت ہوگئی تو آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے اپنی بیماری کے ایام میرے گھر بسر کرنے کی اجازت طلب کی تو تمام ازواج نے بخوشی اجازت دے دی۔ آپ دو آدمیوں کے درمیان اس طرح نکلے کہ آپ کے پاؤں زمین پر نشان کھینچتے تھے۔ آپ جن آدمیوں کے درمیان تھے ان میں سے ایک حضرت عباس ؓ اور دوسرے کوئی اور شخص تھے(راوی حدیث) عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے جو بات حضرت عائشہ ؓ سے سنی تھی جب حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کی تو انھوں نے مجھ سے پوچھا: تم اس شخص کو جانتے ہو جس کا حضرت عائشہ&nbs... 4 صحيح البخاري: كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 3132. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ: اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ: أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: أَغْنِهَا عَنَّا، فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا»... صحیح بخاری: کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 3132. حضرت ابن حنفیہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ اگر حضر ت علی ٍؓ، حضرت عثمان ؓکو برائی سے یاد کرنے والے ہوتے تو اس دن برا بھلا کہتے جب ان کے پاس لوگوں نے حضرت عثمان ؓکے کارندوں کی شکایت کی تھی تو حضرت علی ؓنے صدقات سے متعلقہ ایک پروانہ دے کر مجھے حضرت عثمان ؓکے پاس بھیجا اور فرمایا: انھیں خبردار کرو کہ یہ پروانہ ر سول اللہ ﷺ کا لکھوایا ہوا ہے۔ آپ اپنے کارندوں کو اس کے مطابق عمل درآمد کرنے کا پابند کریں، چنانچہ میں اسے لے کر ان (حضرت عثمانؓ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نےفرمایا: فی الحال ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں وہ صحیفہ حضرت علی ... 5 صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 4319. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلْهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا... صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 4319. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے وقت جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا۔ آپ نے اسے اتارا ہی تھا کہ ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: ابن خطل کعبے کے پردے سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے وہیں قتل کر دو۔‘‘ امام مالک فرماتے ہیں: ہمارے گمان کے مطابق نبی ﷺ اس دن محرم نہیں تھے۔ والله أعلم... 6 صحيح البخاري: كِتَابُ الفِتَنِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 7177. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتْ ... صحیح بخاری: کتاب: فتنوں کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 7177. سیدنا نافع سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے خادموں اور بیٹوں کو جمع کیا اور کہا: بے شک میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائےگا۔“ ہم نے اس شخص کی بیعت اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے۔ میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی غداری نہیں کہ ایک شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے، پھر اس کے خلاف لڑائی کھڑی کر دی جائے۔ دیکھو! تم میں سے جو کوئی اس کی بیعت توڑے گا اور کسی دوسرے کی بیعت کرے گا تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔<... 7 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجِهَادِ حکم : حسن صحیح 2693. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّقِّيُّ، قَالَ:، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ قَالَ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، -وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ-، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ، قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟، قَا... سنن ابو داؤد: کتاب: جہاد کے مسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام) 2693. جناب ابراہیم نخعی ؓ نے کہا ضحاک بن قیس نے ارادہ کیا کہ مسروق کو عامل بنائے۔ تو عمارہ بن عقبہ نے کہا: کیا تم ایسے آدمی کو عامل بنانا چاہتے ہو جو عثمان ؓ کے قاتلوں میں سے باقی رہ گیا ہے؟ تو مسروق نے اس سے کہا: ہمیں سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا اور وہ ہمارے نزدیک حدیث بیان کرنے میں معتبر تھے کہ نبی کریم ﷺ نے، جب تیرے باپ (عقبہ بن ابی معیط) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس (عقبہ) نے کہا: میرے بچوں کا کفیل کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”آگ“ سو میں بھی تیرے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جسے تیرے لیے رسول اللہ ﷺ نے پسند کیا تھا۔... مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 7 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 7