2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2598. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلاَءَهَا، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا، فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ لَهَا...

صحیح بخاری:

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2598.

حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے حضرت بریرہ  ؓ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقاؤں نے یہ شرط لگائی کہ اس کی ولا ان کو حاصل ہوگی۔ نبی کریم ﷺ سے اس کاذکر کیا گیاتو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تم خرید کر اسے آزاد کردو، ولا تو اسی کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔‘‘ ایک دفعہ یوں ہوا کہ حضرت بریرہ  ؓ  کو صدقے کاگوشت ملا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: یہ بریرہ کو بطور صدقہ ملا ہے۔ تب آپ نے فرمایا: ’’یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‘‘ نیز جب وہ آز...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3137. حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَاللَّهُ المُعْطِي وَأَنَا القَاسِمُ، وَلاَ تَزَالُ هَذِهِ الأُمَّةُ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ، وَهُمْ ظَاهِرُونَ»...

صحیح بخاری:

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3137.

حضرت معاویہ  ؓ سے روایت ہےانھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اسے دین میں سمجھ عطا کردیتا ہے۔ دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں۔ یہ امت اپنے مخالفین کے خلاف ہمیشہ غالب رہے گی یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (قیامت) آئے گا تو اس وقت بھی یہ غالب ہوں گے۔‘‘

...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4383. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِي الخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ»...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4383.

حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس خمس لینے کے لیے بھیجا اور میں حضرت علی ؓ سے ناراض رہتا تھا جبکہ انہوں نے وہاں غسل کیا۔ میں نے حضرت خالد بن ولید ؓ سے کہا: آپ دیکھتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے کیا کیا ہے؟ پھر جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اے بریدہ! کیا تو علی سے ناراض رہتا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ہاں! آپ نے فرمایا: ’’تم حضرت علی سے عداوت نہ رکھو کیونکہ اس کا مال خمس میں اس سے زیادہ حق ہے۔‘‘

...