5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ

صحیح

392. وَحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا عُبَيْدٍ، أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ: " {وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260] " قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى جَازَهَا....

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

392.

مالکؒ نے زہریؒ سے روایت کی کہ سعید بن مسیبؒ اور ابوعبیدؒ نے انہیں حضرت ابوہریرہؓ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی جو زہریؒ سے یونسؒ کی (روایت کردہ) حدیث کے مانند ہے۔ اورمالکؒ کی حدیث میں (یوں) ہے: ’’تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘ کہا: پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی حتی کہ اس سے آگے نکل گئے۔

...

6 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ

صحیح

392. وَحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا عُبَيْدٍ، أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ: " {وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260] " قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى جَازَهَا....

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

392.

مالکؒ نے زہریؒ سے روایت کی کہ سعید بن مسیبؒ اور ابوعبیدؒ نے انہیں حضرت ابوہریرہؓ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی جو زہریؒ سے یونسؒ کی (روایت کردہ) حدیث کے مانند ہے۔ اورمالکؒ کی حدیث میں (یوں) ہے: ’’تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘ کہا: پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی حتی کہ اس سے آگے نکل گئے۔

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ

صحیح

392. وَحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا عُبَيْدٍ، أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ: " {وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260] " قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى جَازَهَا....

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

392.

مالکؒ نے زہریؒ سے روایت کی کہ سعید بن مسیبؒ اور ابوعبیدؒ نے انہیں حضرت ابوہریرہؓ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی جو زہریؒ سے یونسؒ کی (روایت کردہ) حدیث کے مانند ہے۔ اورمالکؒ کی حدیث میں (یوں) ہے: ’’تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘ کہا: پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی حتی کہ اس سے آگے نکل گئے۔

...

9 سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ

صحیح

746. حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ الْمَعْنَى عَنْ عِمْرَانَ عَنْ لَاحِقٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْهِ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ يَقُولُ لَاحِقٌ أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ...

سنن ابو داؤد: کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل ()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

746.

جناب بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا: اگر میں نبی کریم ﷺ کے آگے ہوتا تو میں آپ کی بغلیں دیکھ سکتا تھا۔ (یعنی آپ ﷺ کے ہاتھ رفع یدین کے وقت نمایاں طور پر بغلوں سے علیحدہ، دور اور اونچے ہوتے تھے۔) ابن معاذ نے کہا کہ لاحق نے کہا: بھلا سیدنا ابوہریرہ ؓ نماز میں ہوتے ہوئے نبی کریم ﷺ سے آگے کیوں کر ہو سکتے تھے؟ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے: (مقصد یہ ہے کہ) جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تو ہاتھ اونچے کرتے تھے (یعنی نمایاں طور پر اونچے کرتے تھے)۔

...

10 سنن أبي داؤد: كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ

صحیح

1440. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ قَالَ زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ ثُمَّ قَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا فَقَالَ أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ...

سنن ابو داؤد: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

1440.

قیس بن طلق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طلق بن علی ؓ رمضان میں ایک دن ہمارے ہاں آئے اور ہمارے ہی ہاں شام کی اور افطار کیا، اور پھر ہمیں اس رات نماز پڑھائی اور وتر بھی پڑھائے، پھر اپنی مسجد کی طرف چلے گئے اور وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ اور جب وتر باقی رہے تو ایک شخص کو آگے کر دیا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے۔ ”ایک رات میں دو وتر نہیں۔“ (یعنی دو بار وتر نہیں۔)

...