1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1639. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1639.

حضرت ابو ہریرہ ؓ  سے روایت ہے، کہ حجۃالوداع سے قبل رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ  کو ایک سال امیر حج بنایا۔ انھوں نے مجھے دسویں ذوالحجہ چند آدمیوں کے ہمراہ لوگوں میں یہ منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے اور نہ کوئی برہنہ شخص کعبہ کا طواف کرے۔

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1640. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَيَقَعُ الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي العُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ؟ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ المَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِوَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1640.

حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ  سے دریافت کیا: آیا کوئی شخص عمرہ کرتے ہوئے صفا و مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے؟انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ آپ نے بیت اللہ کے گردسات چکرلگائے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت ادا کیں۔ اس کے بعد صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔ اور ابن عمر ؓ  نے فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے)’’یقیناً تمھارے لیے اللہ کے رسول اللہ ﷺ (کی ذات ) میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘ (اس لیے تمھارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1693. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَالِمٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَرْجِعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1693.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے کمزور افراد کو پہلے روانہ کردیتے کہ وہ رات کے وقت مزدلفہ میں وقوف کریں اور جس قدر چاہیں اللہ کا ذکرکریں۔ پھر وہ امام کے وقوف اور اس کے واپس ہونے سے پہلے لوٹ جائیں۔ ان میں سے کچھ تو نماز فجر کے وقت منیٰ پہنچتے اور کچھ اس کے بعد آتے۔ جب وہ سب منیٰ پہنچ جاتے تو جمرے کو کنکریاں مارتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر  ؓ فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اجازت دی ہے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العُمْرَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1806. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ فَنَزَلْنَا سَرِفَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْيُ فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ ...

صحیح بخاری:

کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1806.

حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم حج کے مہینوں میں حج کے اوقات میں احرام باندھ کر روانہ ہوئے۔ جب ہم نے مقام سرف پر پڑاؤ کیا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فرمایا: ’’جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں اور وہ اسے عمرے کے احرام میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو کرلے اور جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہے اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے اہل ثروت کے پاس قربانی کے جانور تھے۔ لہذا ان کےلیے یہ الگ عمرہ نہ ہوا۔ اس دوران میں نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ...

5 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العُمْرَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1808. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَلَا أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ ال...

صحیح بخاری:

کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1808.

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ  ؓ سے عرض کیا۔ جبکہ میں اس وقت نوعمر تھا۔ درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ کے بارے میں آپ کیا فرماتی ہیں: ’’صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ حضرت عائشہ  ؓ نے یہ سن کرفرمایا: ایسا ہرگز نہیں۔ اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو آیت یوں...

8 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العُمْرَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1813. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ مُنِيخٌ فَقَالَ أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَكُن...

صحیح بخاری:

کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1813.

حضرت ابو موسیٰ اشعرى ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس وادی بطحاء میں اس وقت آیا جب آپ وہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’تم حج کی نیت سے آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے دریافت کیا: ’’تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ اس حرام سے لبیک کہا ہے جو نبی کریم ﷺ کا احرام ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’تو نے بہت اچھا کیا ہے۔ بیت اللہ کا طواف کرو، پھر صفا اور مروہ کے درمیا ن سعی کرکے احرام کھول دو۔‘‘ چنانچہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر صفا اور مروہ کے د ر...

9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4183. حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْبِئْرَ وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا ثُمَّ قَالَ ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ دَعُوهَا سَاعَةً فَأَرْوَوْا أَنْفُسَه...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4183.

حضرت براء بن عازب ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ حدیبیہ کے روز رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چودہ سو یا اس سے زیادہ لوگ تھے۔ انہوں نے وہاں ایک کنویں پر پڑاؤ کیا اور اس کا سارا پانی نکال لیا۔ پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ اس کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ’’میرے پاس اس پانی کا ڈول لاؤ۔‘‘ جب ڈول بھر کر لایا گیا تو آپ نے اس میں لعاب دہن ڈالا اور دعا فرمائی، اس کے بعد فرمایا: ’’اسے تھوڑی دیر تک یوں ہی رہنے دو۔‘‘ پھر انہوں نے خود پیا اور اپنی سواریوں کو بھی سیراب کیا، پھر وہاں سے مدی...

10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4184. حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ قَالَ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4184.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی جبکہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پانی کا ایک برتن تھا۔ آپ نے اس سے وضو فرمایا۔ پھر لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس پانی نہیں ہے جس سے ہم وضو کریں اور اسے پئیں۔ صرف وہی پانی ہے جو آپ کے برتن میں ہے۔ نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک پانی کے برتن میں رکھا تو آپ کی انگلیوں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹنے لگا۔ حضرت جابر ؓ نے کہا: ہم سب نے پانی پیا اور اس سے وضو کیا۔ (راوی کہتا ہے: ) میں نے حضرت جابر ؓ سے ...