1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

456. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الخَوْلاَنِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ بَنَى مَسْجِدًا - قَالَ بُكَيْرٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الجَنَّةِ ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

456.

حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے، جب انھوں نے مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو لوگ اس کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے۔ تب انھوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جو شخص مسجد بنائے اور اس کا مقصود محض اللہ کو راضی کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس جیسا گھر جنت میں بنا دیتا ہے۔‘‘

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1493. حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ...

صحیح بخاری:

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1493.

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ  کے کاتب وراد سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ ؓ  نے مغیرہ بن شعبہ ؓ  کو خط لکھا کہ تم مجھے ایسی بات لکھ کرارسال کرو جو تم نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو، انھوں نے جواباً لکھا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کرتاہے:ادھراُدھر کی فضول باتیں کرنا، مال کو ضائع کرنا اور باکثرت سوال کرنا۔‘‘

...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2536. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَرْجَانَةَ - صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ - قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، اسْتَنْقَذَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ» قَالَ سَعِيدُ بْنُ مَرْجَانَةَ: «فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَعَمَدَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى عَبْدٍ لَهُ قَدْ أَعْطَاهُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَشَرَةَ آلاَف...

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2536.

حضرت ابوہریرہ  ؓ سےروایت ہےا، نھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ آزاد کردہ غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کا ہر عضو دوزخ سےآزاد کردے گا۔‘‘ (راوی حدیث) حضرت سعید بن مرجانہ کہتے ہیں: میں اس حدیث کو امام زین العابدین علی بن حسین کی طرف لے کر گیا تو ا نھوں نے اپنے ایک ایسے غلام کاقصد فرمایا جس کے عوض حضرت عبداللہ بن جعفر انھیں دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دیتے تھے، چنانچہ انھوں نے اسے (فروخت کرنے کے بجائے فی سبیل اللہ) آزاد کردیا۔

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2561. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ، فَكَتَبَ إِلَيَّ «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي المُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى المَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ»، حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الجَيْشِ...

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2561.

ابن عون کہتے ہیں: میں نے حضرت نافع ؓ کوخط لکھا توانھوں نے جواباً مجھے خط لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے جب بنومصطلق پر حملہ کیا تو وہ بالکل بے خبر تھے اور ان کےجانوروں کو تالاب پر پانی پلایاجارہا تھا، چنانچہ آپ نے ان کے لڑنے والوں کوقتل کردیا اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا۔ انھی قیدیوں میں سے حضرت ام المومنین جویریہ  ؓ بھی تھیں۔ حضرت نافع کہتے ہیں : مجھے یہ واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر  ؓ نے بیان کیا جو اس لشکر میں موجود تھے۔

...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2563. حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ القَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الحَمِيدِ، عَنِ المُغِيرَةِ، عَنِ الحَارِثِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلاَثٍ، سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي، عَلَى الدَّجَّالِ»، قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2563.

حضرت ابوہریرہ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں بنو تمیم سے برابر محبت کرتا رہتا ہوں، جب سے میں نے ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے تین باتیں سنی ہیں۔ آپ فرماتے تھے: ’’میری امت میں سے دجال پر یہی لوگ زیادہ سخت ہوں گے۔‘‘ ابوہریرہ  ؓ کابیان ہے کہ ایک دفعہ ان کی طرف سے زکاۃ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ ہماری قوم کی زکاۃ ہے۔‘‘ اور ان میں سے ایک لونڈی حضرت عائشہ  ؓ کے پاس تھی جس کے متعلق آپ نے فرمایا: ’’اسے آزاد کردے کیونکہ یہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہے۔‘‘

...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2565. حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ، قَالَ: سَمِعْتُ المَعْرُورَ بْنَ سُويْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَعَلَى غُلاَمِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا، فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ،...

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2565.

حضرت معرور بن سوید سے روایت ہے انھوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذر غفاری  ؓ کودیکھا کہ وہ ایک عمدہ پوشاک زیب تن کیے ہوئے تھے اور ان کے غلام نے بھی اسی طرح کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔ ہم نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی۔ اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں میری شکایت کی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ’’ کیاتو نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی ہے؟‘‘ پھر فرمایا: ’’تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے، اسلیے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہوتو جو وہ خود کھاتاہے وہی اس...

9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2578. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»، قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلاَءِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ...

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2578.

حضرت عبداللہ بن عمر  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرمارہے تھے : ’’تم سب نگران ہو اور ہر ایک سے اس کی نگرانی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ بادشاہ نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کی نگرانی کے متعلق سوال ہوگا۔ مرد اپنے گھر کانگہبان ہے، اس سے اہل خانہ کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کی نگرانی کے متعلق سوال کیاجائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کانگران ہے، اس سے اس کی نگرانی کے متعلق پوچھاجائے گا۔‘‘  حضرت عبداللہ بن عمر  ؓ نے کہا: میں نے مذکورہ باتیں نبی کریم ﷺ سے سنی ہیں۔ میر اخیا...