2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4023. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَنْ مَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4023.

حضرت عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے، انہوں نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھا کہ وہ حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ‬ ؓ ک‬ے پاس جائیں اور ان سے اس واقعے کی تفصیلات پوچھیں جو انہیں پیش آیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں کیا جواب دیا تھا جب انہوں نے فتویٰ طلب کیا تھا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ بن ارقم نے عبداللہ بن عتبہ کے جواب میں لکھا کہ سبیعہ بنت حارث‬ ؓ ن‬ے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ ؓ کے نکاح میں تھیں، ان کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان (سعد بن خولہ) کی وفات ہوئی جبکہ وہ (سبیعہ اسلمیہ) اس و...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4854. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ الْقَرَابَةِ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4854.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، ان سے کسی نے پوچھا کہ ﴿إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِى ٱلْقُرْبَىٰ﴾ کا مطلب کیا ہے؟ حضرت سعید بن جبیر نے (جھٹ سے) کہہ دیا: اس سے آل محمد ﷺ کی قرابت مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے نبی ﷺ کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان موجود ہے۔‘‘

...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ

صحیح

463. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ....

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

463.

شعیبؒ نے ابن شہاب زہریؒ سے خبر دی، انہوں نے کہا: عطاءؒ اور سعید بن مسیبؒ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہؓ نےان دونوں کو خبر دی، کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟. .....آگے ابراہیم بن سعدؒ کی طرح حدیث بیان کی۔

6 سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ

صحیح

987. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا...

سنن نسائی: کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

987.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک انصاری آدمی اپنے پانی ڈھونے والے دو اونٹوں کے ساتھ حضرت معاذ ؓ کے پاس سے گزرا جب کہ وہ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے سورہ بقرہ شروع کرلی۔ وہ آدمی (اکیلا) نماز پڑھ کر چلا گیا۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم فتنہ باز ہو؟ اے معاذ! کیا تم لوگوں کو آزمائش میں ڈال رہے ہو؟ تم نے کیوں نہ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَی) اور (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) اور ان جیسی دوسری سورتیں پڑھیں؟“

...

7 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ

صحیح

832. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمَضَ، وَيَرْفَعُكَ مِنَ الْوَقَعِ، وَيَقِيكَ هَوَامَّ الْأَرْضِ فَقَالَ: وَاللَّهِ، مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي بِطُنُبِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

832.

حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک انصاری صحابی کا گھر مدینے میں سب سے دور تھا۔ (اس کے باوجود) اس کی کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (باجماعت) ادا ہونے سے نہیں رہتی تھی۔ سیدنا ابی ؓ نے فرمایا: مجھے اس پر ترس آیا، میں نے کہا: فلاں صاحب! اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تو(راستے میں) ریت کی گرمی برداشت کرنے سے، اور پتھروں سے ٹھوکر لگ جانے سے محفوظ رہیں، اور زمین کے کیڑے مکوڑوں (سانپ، بچھو وغیرہ) سے بھی بچ جائیں۔ اس نے کہا: قسم ہے اللہ کی! مجھے تو یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہو۔ اس کے یہ الفاظ مجھے بہت گراں محسوس ہوئے حتی کہ میں نے...