صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد صحيح البخاري صحيح مسلم سنن أبي داؤد جامع الترمذي سنن النسائي سنن ابن ماجه مُسند أحمد 10 نتائج حاصل کریں 25 نتائج حاصل کریں 50 نتائج حاصل کریں 100 نتائج حاصل کریں مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 9 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 9 1 صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 757. حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالعَصْرِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: «بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ»... صحیح بخاری: کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 757. حضرت ابومعمر سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت ؓ سے سوال کیا: آیا رسول اللہ ﷺ نماز ظہر اور نماز عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ہم نے پوچھا: آپ لوگ کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ کی داڑھی مبارک کے ہلنے کی وجہ سے۔ 2 صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 6251. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ» وَرَوَاهُ أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... صحیح بخاری: کتاب: اخلاق کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 6251. حضرت جابر بن عبداللہ بن انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے نام ہر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔ میں تو قاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا ہوں اس روایت کو حضرت انس ؓ نے بھی نبی ﷺ سے بیان کیا ہے۔ 3 صحيح البخاري: كِتَابُ القَدَرِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 6667. حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَأْتِ ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ قَدْ قَدَّرْتُهُ وَلَكِنْ يُلْقِيهِ الْقَدَرُ وَقَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ... صحیح بخاری: کتاب: تقدیر کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 6667. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”(اللہ تعالٰی فرماتا ہے:) ںذر، بندے کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاتی جو میں نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو بلکہ تقدیر اسے وہ چیز دیتی ہے جو میں نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے البتہ میں اس کے ذریعے سے بخیل سے مال نکلوا لیتا ہوں۔“... 4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ حکم : صحیح 397. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان () مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام) 397. عبدہ بن سلیمانؒ، سفیانؒ اور شعبہؒ نے صالح بن صالحؒ کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ 5 سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ حکم : صحیح 856. حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاضٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى ال... سنن ابو داؤد: کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام) 856. سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور سلام کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جاؤ نماز پڑھو! تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ چنانچہ وہ گیا اور نماز پڑھی جیسے کہ (پہلے) پڑھی تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: ”«وعليك السلام» جاؤ نماز پڑھو! تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ اس نے تین بار ایسے ہی کیا۔ بالآخر اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے... 6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حکم : ضعیف 303. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ وَهِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ... جامع ترمذی: كتاب: نماز کے احکام ومسائل () مترجم: ٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي) 303. ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: ’’حذف سلام‘‘ سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: ’’حذف سلام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں۔۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے (یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے)۔... 7 سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ حکم : صحیح 884. أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ... سنن نسائی: کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام) 884. حضرت مالک بن حویرث ؓ سے منقول ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، اس وقت بھی (ہاتھ اٹھاتے) حتیٰ کہ وہ کانوں کے کناروں کے برابر ہوجاتے۔ 8 سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا حکم : صحیح 1060. حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى قَالَ الْوَلِيدُ فَقُلْتُ لِمَالِكٍ أَهَكَذَا قَرَأَ وَاتَّخِذُوا قَالَ نَعَمْ... سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ () مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام) 1060. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب طواف کعبہ سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے۔ سیدنا عمر ؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے جد امجد سیدنا ابراہیم ؑ کا وہ مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهیمَ مُصَلًّى ۭ﴾ ’’تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ مقرر کر لو۔‘‘... 9 سنن ابن ماجه: كِتَابُ اللِّبَاسِ حکم : صحیح 3695. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا قَالَ شِبْرًا قُلْتُ إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا قَالَ ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ... سنن ابن ماجہ: کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام) 3695. ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: عورت اپنا دامن کتنا لٹکائے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک بالشت۔ میں نے کہا: تب اس (قدموں یا پنڈلیوں) سے کپڑاہٹ جائے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک ہاتھ۔ اس سے زیادہ نہ لٹکائے۔ مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 9 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 9