1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

920. حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا...

صحیح بخاری:

کتاب: جمعہ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

920.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ اطمینان اور سکون سے چلتے ہوئے آؤ۔ وقار و طمانیت تم پر لازم ہے۔ نماز کا جو حصہ تمہیں مل جائے اسے پڑھو اور جو نہ ملے اسے پورا کر لو۔‘‘

...

3 سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ

صحیح

1092. حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَال:َ لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: >اجْلِسُوا<، فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: >تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ!<. قَالَ أَبو دَاود: هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَخْلَدٌ هُوَ: شَيْخٌ....

سنن ابو داؤد: کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل ()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

1092.

جناب عطاء بن ابی رباح، سیدنا جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک بار) جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ (منبر پر) برابر (تشریف فرما) ہو گئے تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ!“ اسے سیدنا ابن مسعود ؓ نے سنا تو مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ”اے عبداللہ بن مسعود! آگے آ جاؤ۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں اس حدیث کا مرسل ہونا معروف ہے۔ محدثین کی ایک جماعت اسے عطاء (تابعی) سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ (یعنی درمیان میں صحابی کا واسطہ متروک ہے) اور مخلد ”شیخ“ ہے۔ (یعنی اس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔)

...

4 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجُمُعَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

506. وَرَوَاهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟! فَقَالَ: مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ وَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، قَالَ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَمَرَ بِالْغُسْلِ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ...

جامع ترمذی: كتاب: جمعہ کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

506.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران صحابہ میں سے ایک شخص۱؎ (مسجد میں) داخل ہوئے، تو عمر ؓ نے پوچھا: یہ کون سا وقت، (آنے کا) ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے صرف اتنی دیر کی کہ اذان سنی اور بس وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پرعمر ؓ نے کہا: تم نے صرف (وضو ہی پر اکتفا کیا) حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل کا حکم دیا ہے؟۔

...

5 سنن النسائي: كِتَابُ الْجُمْعَةِ

صحیح

1416. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً وَيَقُولُ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ...

سنن نسائی:

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

1416.

حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر (خطبہ دیتے) دیکھا جب کہ حضرت حسن ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی اس کی طرف۔ آپ فرما رہے تھے: ”یقیناً میرا یہ بیٹا سردار ہوگا، قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔“

...