5 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

صحیح

2017. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمَنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

2017.

سیدنا اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوا۔ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تھے، تو جس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی ہے یا کوئی کام پہلے کر لیا ہے یا کوئی مؤخر کر دیا ہے۔ تو آپ ﷺ فرماتے تھے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔ مگر جو کوئی ظلم کرتے ہوئے کسی مسلمان کی عزت کو کاٹے (غیبت کرے یا طعن و تشنیع وغیرہ) تو وہ حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“

...

7 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ

صحیح

2624. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْقَتْلَ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ فَلِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ زَنَى وَهُوَ مُحْصَنٌ فَرُجِمَ أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ وَلَا قَتَلْ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2624.

حضرت ابو امامہ اسعد بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے (باغی) لوگوں کو جھانک کر دیکھا تو آپ نے سنا کہ وہ (حضرت عثمان ؓ کو) قتل کرنے کی باتیں کر رہے ہیں، چنانچہ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: وہ مجھے قتل کرنے کے عہد و پیمان کر رہے ہیں۔ (آخر) وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: تین میں سے کسی ایک وجہ کے بغیر مسلمان آدمی کا خون کرنا جائز نہیں۔ (ایک) وہ شخص جس نے شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کیا تو اسے رجم کیا جائے گا۔ (دوسرا) وہ شخص جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ جاہلیت میں زنا کیا تھا، ن...