1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6458. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ اليَهُودَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالَ: «وَعَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالعُنْفَ، أَوِ الفُحْشَ» قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ، رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَل...

صحیح بخاری:

کتاب: دعاؤں کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6458.

سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ کچھ یہودی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: السام علیك آپ ﷺ نے جواب دیا: ''وعلیکم'' لیکن سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے جواب دیا: تم پر ہلاکت اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ !رک جاؤ، نرم خوئی اختیار کرو، سختی اور بد کلامی سے پرہیز کرو۔“ انہوں نے عرض کی: آپ نے نہیں سنا وہ کیا کہہ رہے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کیا جواب دیا تھا؟ میں نے ان کی بات ان پر لوٹا دی تھی۔ میرا جواب تو ان کے متعلق شرف قبولیت...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ

صحیح

2972. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا، حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «أَنَفِسْتِ؟» - يَعْنِي الْحَيْضَةَ قَالَتْ - قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آ...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل ()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

2972.

قاسم نے اپنے والد (محمد بن ابی بکر) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف یا اس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں؟‘‘ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے) کہا: میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ ...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ

صحیح

2972. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا، حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «أَنَفِسْتِ؟» - يَعْنِي الْحَيْضَةَ قَالَتْ - قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آ...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل ()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

2972.

قاسم نے اپنے والد (محمد بن ابی بکر) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف یا اس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں؟‘‘ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے) کہا: میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ ...

6 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ

حسن صحیح

4144. حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا، اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ، حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ، وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4144.

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! سب سے سخت مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: نبیوں پر پھر جوان کے بعد سب سے افضل ہیں، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں۔ بندے پر اس کے دین کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ اگر وہ اپنے دین (اور ایمان) میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔ اگر اس کا ایمان نرم ہو تو اس کے ایمان کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ بندے پر آزمائش (اور مصیبت) آتی رہتی ہے حتیٰ کہ اسے ایسا کے کے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چل پھر رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ (باقی) نہیں ہوتا۔

...

7 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ

صحیح

4145. حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ: «إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ، وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4145.

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپﷺ کو بخار تھا۔ میں نے آپﷺ کے جسم مبارک پر ہاتھ رکھا تو لحاف کے اوپر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو حرارت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ کو کتنا سخت بخار ہے! آپﷺ نے فرمایا: ہم (انبیاء) اسی طرح ہوتے ہیں کہ ہمیں مصیبت (یا آزمائش) بھی دگنی آتی ہے اور ثواب بھی دوگنا ملتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! سب سے زیادہ سخت آزمائش کن لوگوں کو آتی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نبیوں کو‘‘ میں نے کہا: ان کے بعد؟ فرمایا: ’’نیک لوگوں کو۔‘‘ انہیں فقر...