1 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

540. دَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: «إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي» وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: نماز کے دوران میں بات چیت کی حرمت اور پہلے جو...)

540.

قتیبہ بن سیعد اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انھوں نے ابوزبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپﷺ کو آ کر ملا، آپﷺ سفر میں تھے قتیبہ نے کہا: آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپﷺ کو سلام کہا، آ پﷺ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ’’ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔‘‘ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپﷺ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔

...

2 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

540. دَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: «إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي» وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: نماز کے دوران میں بات چیت کی حرمت اور پہلے جو...)

540.

قتیبہ بن سیعد اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انھوں نے ابوزبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپﷺ کو آ کر ملا، آپﷺ سفر میں تھے قتیبہ نے کہا: آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپﷺ کو سلام کہا، آ پﷺ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ’’ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔‘‘ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپﷺ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

540. دَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: «إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي» وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: نماز کے دوران میں بات چیت کی حرمت اور پہلے جو...)

540.

قتیبہ بن سیعد اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انھوں نے ابوزبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپﷺ کو آ کر ملا، آپﷺ سفر میں تھے قتیبہ نے کہا: آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپﷺ کو سلام کہا، آ پﷺ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ’’ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔‘‘ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپﷺ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔

...

4 سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ (بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ)

صحیح

926. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِى الْمُصْطَلَقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ, هَكَذَا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ, هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: >مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي...

سنن ابو داؤد: کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل (باب: نماز کے دوران میں سلام کا جواب دینا)

926.

سیدنا جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے قبیلہ بنی مصطلق کی طرف بھیجا۔ میں آیا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کرنا چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ میں نے پھر بات کی تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ میں آپ کو سن رہا تھا کہ آپ ﷺ قراءت کر رہے تھے اور (رکوع سجود کے لیے) اپنے سر سے اشارہ کر رہے تھے۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا اس کا تم نے کیا کیا؟ اور تم سے بات نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“

...

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الدَّابَّةِ ح...)

صحیح

351. حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا لَا يَرَوْنَ ب...

جامع ترمذی: كتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: سواری کے او پر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی ...)

351.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو (دیکھا کہ) آپ اپنی سواری پر مشرق (پورب) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے۔
۲- اس باب میں انس، ابن عمر، ابو سعید، عامر بن ربیعہ‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔
۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ ق...

7 سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ رَدِّ السَّلَامِ بِالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَا...)

صحیح

1189. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ...

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

(باب: نماز میں اسلام کا جواب اشارے سے دینا)

1189.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ نے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو میں نے آپ کو نماز کی حالت میں پایا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اصل میں آپ اس وقت مشرق کی طرف جا رہے تھے۔

...

8 سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ رَدِّ السَّلَامِ بِالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَا...)

صحیح

1190. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ مُشَرِّقًا أَوْ مُغَرِّبًا فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي يَا جَابِرُ فَنَادَانِي النَّاسُ يَا جَابِرُ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي...

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

(باب: نماز میں اسلام کا جواب اشارے سے دینا)

1190.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ مجھے نبی ﷺ نے (کسی کام سے) بھیجا۔ میں واپس آیا تو آپ مشرق یا مغرب کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ میں نے سلام کہہ دیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں نے پھر سلام کہا تو آپ نے پھر ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں چلا گیا۔ (کچھ دیر بعد) آپ نے مجھے آواز دی: ”اے جابر!“ لوگوں نے بھی آوازیں دیں۔ جابر جابر! میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سلام کہا تھا، آپ نے جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: ”میں نماز پڑھ رہا تھا۔“

...