2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3393. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ المِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ، وَيَقُولُ: إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ...

صحیح بخاری:

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3393.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی ﷺ کلمات ذیل سے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو دم کرتے اور فرماتے تھے: ’’تمھارے دادا حضرت ابراہیم ؑ بھی انہی کلمات سے حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کو دم کرتے تھے۔ میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعے سے ہر شیطان، زہریلے جانور اور ہر ضرر رساں نظر کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3430. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ فِي قَسَمٍ يُقْسِمُ بِهِ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِكَ يَدَهُ فَلَطَمَ الْيَهُودِيَّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الَّذِي كَانَ مِن...

صحیح بخاری:

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3430.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں لڑ پڑے۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر برتری دی ہے! یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نےحضرت موسیٰ ؑ کو سب اہل جہاں پر فضیلت دی ہے! اس وقت مسلمانوں نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو طمانچہ رسید کردیا۔ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس واقعے کی اطلاع دی جو اس کے اور مسلمان کے درمیان ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حضرت موسیٰ ؑ پر برتری نہ دو کیونکہ جب تمام لوگ بے ہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا۔ میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ ؑ عرش کا ...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ

صحیح

164. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ: " قُلْ: «آمَنْتُ بِاللهِ، فَاسْتَقِمْ»....

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

164.

عبد اللہ بن نمیرؒ، جریرؒ اور ابواسامہؒ نے ہشام بن عروہؒ سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد (عروہؒ) سے اور انہوں نے حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے (ابو اسامہؒ کی روایت میں ’’آپ کےبعد‘‘ کی بجائے ’’آپ کے سوا‘‘ کے الفاظ ہیں) آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ’’کہو: آمنت باللہ ( میں اللہ پر ایمان لایا ) ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ۔&ls...

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

3346. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتْ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ الْآيَةَ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتْ الَّتِي فِي النِّسَاءِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللّ...

جامع ترمذی: كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

3346.

عمربن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے تسلی بخش صاف صاف حکم بیان فرما، تو سورہ بقرہ کی پوری آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾۱؎  نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہو چکی) تو عمر رضی الله عنہ بلائے گئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ (یہ آیت سن کر) عمر رضی الله عنہ نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرما: ’’ تو سورہ نساء کی آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَتَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾۲؎ ...