1 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابٌ فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ)

حسن

3628. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ<. قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضُهُ: يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ....

سنن ابو داؤد:

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

(باب: قرضے وغیرہ میں مقروض کو قید کر لینا)

3628.

سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ ابن مبارک نے کہا: اس کی بے عزتی کو حلال کر دیتا ہے۔ یعنی اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ اور اس کو سزا دینا حلال ہے۔ یعنی اسے قید کیا جا سکتا ہے۔

...

2 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَالْمُلَازَمَةِ)

حسن

2427. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ قَالَ وَكِيعٌ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل (باب: قرض (کی عدم ادائیگی ) کی وجہ سے قید کرنا اور ...)

2427.

حضرت عمرو بن شرید رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد (حضرت شرید ثقفی ؓ) سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادائیگی کی طاقت رکھنے والا ٹال مٹول کرے تو اس کی بے عزتی کرنا اور اسے سزا دینا جائز ہو جاتا ہے۔ (امام ابن ماجہ رخمۃ اللہ علیہ کے استاد) علی بن محمد طنافسی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بے عزتی کرنے سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مراد قید کرنا ہے۔

...