2 سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا

صحیح

1188. حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ إِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كَذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى دَارٍ فِي السُّوقِ يُقَالُ لَهَا الزَّوْرَاءُ فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ ()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1188.

حضرت سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا تو ایک ہی مؤذن تھا، جب رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے کے لئے گھر سے) باہر تشریف لاتے (اور منبر پر تشریف رکھتے) تو وہ آذان کہتا اور جب (خطبے سے فارغ ہو کر) منبر سے اترتے تو وہ اقامت کہہ دیتا۔ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ؓ کا معمول بھی یہی تھا۔ پھر جب سیدنا عثمان ؓ خلیفہ ہوئے اور (نماز کے لئے آنے والے) لوگوں کی کثرت ہو گئی تو انہوں نے بازار میں ایک گھر (کی چھت) پر تیسری اذان مزید کہلوائی۔ اس جگہ کا نام زَوْرَاء تھا (جہاں مؤذن یہ اذان کہتا تھا) جب سیدنا عثمان ؓ (خطبے کے لئے) تش...