قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ (بَابُ مَنْ قَالَ يُتِمُّ عَلَى أَكْبَرِ ظَنِّهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1030.   حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي, جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى! فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ, فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ. قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ وَاللَّيْثُ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل 

  (

باب: ان حضرات کے دلائل جو کہتے ہیں کہ ظن غالب پر بنا کرے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1030.   سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس پر خلط ملط کر دیتا ہے (یعنی بھلوا دیتا ہے) حتیٰ کہ اسے معلوم نہیں رہتا کہ کس قدر نماز پڑھی ہے‘ تو تم میں سے کوئی جب یہ کیفیت محسوس کرے تو چاہیئے کہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ‘ معمر اور لیث نے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے۔