قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ فِي الِاسْتِعْفَافِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1645.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَهَذَا حَدِيثُهُ عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ طَارِقٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ

سنن ابو داؤد:

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سوال سے بچنے کی فضیلت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1645.   سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے انتہائی شدید حاجت آ پڑے اور اس نے اسے لوگوں پر پیش کر دیا تو اس کی وہ حاجت دور نہ ہو گی۔ اور جس نے اسے اللہ پر پیش کیا تو عنقریب اللہ تعالیٰ اسے بے پروا کر دے گا۔ یا تو جلد ہی موت آ جائے گی (اور دنیا کے بکھیڑوں سے جان چھوٹ جائے گی) یا جلد ہی غنی ہو جائے گا۔ (اور کسی کی احتیاج نہ رہے گی)۔“