قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مَنْ بَعَثَ بِهَدْيِهِ وَأَقَامَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1759.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَلَمْ يَحْفَظْ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا وَلَا حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا قَالَا قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدْيِ فَأَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا بِيَدِي مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص ہدی ( قربانی حرم کی طرف ) بھیج دے اور خود نہ جائے ( تو اس کا کیا حکم ہے ؟)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1759.   ام المؤمنین (سیدہ عائشہ ؓ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدی بھجوائی اور میں نے اون سے جو ہمارے ہاں تھی، اس کے قلاووں کی رسیاں بٹیں، پھر آپ ہمارے ہاں اسی طرح حلال ہی رہے۔ اپنے اہل کے پاس آتے جیسے کہ کوئی عام آدمی آتا ہے۔