قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1940.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو دَاوُد اللَّطْخُ الضَّرْبُ اللَّيِّنُ

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مزدلفہ سے روانگی میں جلدی کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1940.   سیدنا ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبدالمطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھوں پر سوار کر کے آگے بھیج دیا تھا۔ اس موقع پر آپ ﷺ ہماری رانوں پر آہستہ آہستہ مارتے ہوئے فرما رہے تھے: ”بچو! سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں «اللطخ» کا معنی ہے ”نرم انداز میں مارنا۔“