قسم الحديث (القائل): موقوف علی صحابی اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ فِي رَمْيِ الْجِمَارِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1972.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ قَالَ إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ فَقَالَ كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ فَإِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ رَمَيْنَا

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جمرات کو کنکریاں مارنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1972.   وبرہ (بن عبدالرحمٰن سلمی) کہتے ہیں، میں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ میں کس وقت جمرات کو کنکریاں ماروں؟ انہوں نے کہا: جب تمہارا امام مارے تم بھی مار لو۔ میں نے اپنا سوال دہرایا تو بولے ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ جب سورج ڈھل جاتا تو رمی کرتے تھے (قربانی والے دن کے بعد کے ایام میں)