قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ فِي مَكَّةَ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2016.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وِدَاعَةَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ قَالَ سُفْيَانُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ قَالَ سُفْيَانُ كَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنَا كُثَيْرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي عَنْ جَدِّي

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مکے میں ( نماز کے لیے سترے کا مسئلہ )

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2016.   کثیر بن کثیر کے دادا (سیدنا مطلب بن ابی وداعہ ؓ) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو (مسجد الحرام میں) باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا جب کہ لوگ آپ ﷺ کے آگے سے گزر رہے تھے اور ان کے درمیان (رسول اللہ ﷺ اور کعبہ کے مابین) سترہ نہیں تھا۔ سفیان نے بصراحت کہا «ليس بينه وبين الكعبةِ سترةٌ ***» سفیان کہتے ہیں کہ ابن جریج نے اس کی سند میں یوں بیان کیا تھا «أخبرنا كثير ، عن أبيه» یعنی کثیر نے اپنے والد سے بیان کیا، پھر میں نے ان سے (براہ راست) پوچھا تو کہا، میں نے یہ حدیث اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ گھر کے کسی دوسرے فرد سے سنی تھی اور اس نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔