قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ فِي الِاسْتِئْمَارِ)

حکم : شاذ

ترجمۃ الباب:

2094.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ فِيهِ قَالَ: >فَإِنْ بَكَتْ، أَوْ سَكَتَتْ<, زَادَ >بَكَتْ . قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ بَكَتْ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ وَهْمٌ فِي الْحَدِيثِ الْوَهْمُ مِنِ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ؟ قَالَ: >سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نکاح کے سلسلے میں لڑکی سے مشورہ کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2094.   محمد بن عمرو نے یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی اور اس نے کہا «فإن بكت أو سكتت» ”اگر وہ رو پڑے یا خاموش رہے۔“ اس نے «بكت» کے لفظ کا اضافہ کیا (رو پڑے۔) امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ «بكت» محفوظ نہیں، وہم ہے جو ابن ادریس سے ہوا ہے یا محمد بن علاء سے۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعمرو ذکوان نے سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت کیا، وہ کہتی ہیں کہ (میں نے کہا) اے ﷲ کے رسول! کنواری لڑکی تو بات کرنے سے حیاء کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا خاموشی رہنا ہی اس کا اقرار ہے۔“