قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الضَّحَايَا (بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2801.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي -يُقَالُ لَهُ: أَبُو بُرْدَةَ -قَبْلَ الصَّلَاةِ, فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ<، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ؟ فَقَالَ: >اذْبَحْهَا، وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قربانی کے لیے کس عمر کا جانور جائز ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2801.   سیدنا براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے ماموں نے جب کا نام ابوبردہ تھا، نماز سے پہلے ہی قربانی کر ڈالی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تیری بکری تو گوشت کی بکری ہوئی۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس گھر کی پلی ہوئی ایک جذع بکری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر دو، لیکن تیرے سوا کسی اور کے لیے درست نہیں ہو گی۔“