قسم الحديث (القائل): موقوف علی صحابی اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْفَرَائِضِ (بَابُ نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

2921.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ كَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَنَسَخَ ذَلِكَ الْأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَى وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ

سنن ابو داؤد:

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نسب کی میراث نے مواخات اور خلف کی وراثت کو منسوخ کر دیا ہے

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2921.   سیدنا ابن عباس ؓ نے آیت کریمہ: (وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ) کی تفسیر میں بیان کیا کہ ایک آدمی دوسرے کا حلیف بن جاتا تھا، جبکہ ان میں کوئی نسبی قرابت نہ ہوتی تھی، پھر ہر ایک دوسرے کا وارث بھی ہوتا تھا، تو اس حکم کو سورۃ الانفال نے منسوخ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ) ”رشتے ناتے والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں۔“