قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ (بَابٌ فِي التَّلَقِّي)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3437.   حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ، عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ، فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاهُ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ: >لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ<، أَنْ يَقُولَ: إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْهُ بِعَشَرَةٍ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: منڈی میں مال لانے والوں سے راستے ہی میں سودا کر لینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3437.   سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ منڈی میں سامان لانے والوں سے راستے ہی میں ملاقات کی جائے (یعنی سامان خرید لیا جائے) اگر کوئی خریدار اس سے ملا ہو اور سامان خریدا ہو تو مال والے کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا، سفیان ؓ نے کہا: کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے یعنی یوں کہے کہ میرے پاس اس سے دس گنا بہتر ہے۔ (ایسا کہنا جائز نہیں۔)