قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ (بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لَا خِلَابَةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3500.   - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ<, فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص معاملہ کرتے ہوئے کہہ دے کہ ” دھوکا اور فریب نہیں “

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3500.   سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ لوگ خرید و فروخت میں مجھے دھوکا دے جاتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جب تم معاملہ کرو تو یوں کہہ دیا کرو کہ دھوکا فریب نہیں۔“ چنانچہ وہ سودا کرتے ہوئے کہا: کرتا تھا: «لا خلابة» ”دھوکا فریب نہیں.“