قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ (بَابُ الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3539.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ہدیہ دے کر واپس لے لینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3539.   سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کسی آدمی کو حلال نہیں کہ کوئی عطیہ دے یا ہدیہ اور پھر اسے واپس لوٹا لے۔ سوائے باپ کے جو وہ اپنے بیٹے کو دے (تو واپس لے سکتا ہے۔) اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کتے کی سی ہے جو کھاتا ہے، جب پیٹ پھر جائے تو قے کر دیتا ہے اور پھر دوبارہ اسی کو کھانے لگ جاتا ہے۔“