قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابٌ فِي تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4958.   حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَحَ، فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَيَقُولُ: لَا، إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ, فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيَّ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: غلط اور برے نام بدل دینے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4958.   سیدنا سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بچے یا غلام کا نام یسار ”مبارک، آسان“ رباح ”نفع آور“ نجیح ”کامیاب“ افلح ”کامیاب“ ہرگز نہ رکھنا۔ تم پوچھو گے کیا وہ یہاں ہے؟ تو جواب ملے گا نہیں۔“ (مقصد یہ ہے کہ اس طرح بدفالی ہو گی) (سیدنا سمرہ ؓ نے کہا) یہ بس چار نام ہیں، مذید میرے ذمے نہ لگا دینا۔