قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النَّومِ (بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5049.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ قَالَ: >اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ<، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: >الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ<.

سنن ابو داؤد:

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: سوتے ہوئے کون سی دعا پڑھے ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

5049.   سیدنا حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ» ” اے اﷲ ! تیرے ہی نام سے میں زندہ ہوتا اور مرتا ہوں۔ یعنی سوتا اور جاگتا ہوں۔“ اور جب جاگتے تو یہ پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”تمام تعریفیں اس اﷲ کی ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا (نیند کے بعد جگایا) اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔“