قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النَّومِ (بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْعَى أَيَكُونُ ذَلِكَ إِذْنَهُ)

حکم : صحيح لغيره

ترجمۃ الباب:

5190.   حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ قَالَ أَبُو عَلِىٍّ الْلُّؤْلُؤِيُّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا

سنن ابو داؤد:

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: جب آدمی کو بلوایا جائے اور وہ بلانے والے کے ساتھ چلا آئے تو کیا یہ اجازت کے ہم معنی ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

5190.   سیدنا ابو ہریرۃؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کسی کو کھانے پر بلایا جائے اور وہ بلانے والے کے ساتھ چلا آئے تو یہی اجازت ہے۔‘‘ امام ابو داؤد ؓ نے فرمایا: کہا جاتا ہے کہ قتادہ نے ابو رافع سے کچھ نہیں سنا۔