قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

557.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ! فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ. فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ، فَقَالَ: >أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَنْطَاكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز کے لیے پیدل چل کر جانے کی فضیلت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

557.   سیدنا ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تھا، جہاں تک میں جانتا ہوں، اہل مدینہ میں قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے والوں میں اس کا گھر سب سے دور تھا اور مسجد میں کوئی نماز بھی اس سے نہ چوکتی تھی۔ میں نے اس سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیں، گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہوں (تو سہولت رہے)- اس نے کہا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو۔ اس کی یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نیت یہ ہے کہ میرا مسجد میں آنا اور یہاں سے گھر واپس جانا سب ہی لکھا جائے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں یہ سب عطا فرما دیا۔ جس اجر و ثواب کی تو نے امید کی ہے اللہ نے وہ سب عنایت فرما دیا۔“