قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الصُّفُوفِ (بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

669.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ

سنن ابو داؤد:

کتاب: صف بندی کے احکام ومسائل 

  (

باب: صفیں سیدھی کرنے کا مسئلہ

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

669.   جناب محمد بن مسلم بن سائب صاحب مقصورہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک ؓ کے پہلو میں نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں رکھی ہوئی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر ہاتھ رکھا کرتے تھے (یعنی اپنے ہاتھ میں پکڑا کرتے تھے) اور فرماتے تھے: ”برابر ہو جاؤ اور اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔“