قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ الْمَاءِ لَا يُجْنِبُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

68.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب : (جنبی کا مستعمل) پانی ’’جنبی‘‘ نہیں ہوتا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

68.   سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کسی اہلیہ محترمہ نے لگن میں سے غسل کیا۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ اس سے وضو یا غسل کرنا چاہتے تھے، تو اہلیہ محترمہ نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اے اللہ کے رسول! میں جنابت سے تھی (اور میں نے اسی پانی سے غسل کیا ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(تو کیا ہوا ؟) پانی جنبی نہیں ہوتا (پاک ہی رہتا ہے)۔ “