قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّتْرَةِ (بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنَ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

701.   حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً

سنن ابو داؤد:

کتاب: سترے کے احکام ومسائل 

  (

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

701.   جناب زید بن خالد جہنی نے انہیں (بسر بن سعید کو) سیدنا ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا اور پچھوایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو سیدنا ابوجہیم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ اس پر کتنا گناہ اور عذاب ہے تو (اس کے بدلے) اسے چالیس کھڑا رہنا، اس کے آگے سے گزرنے سے اچھا لگے۔“ ابونضر نے کہا: نہ معلوم آپ نے چالیس کے لفظ کے ساتھ دن، مہینہ یا سال، کیا فرمایا؟