قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ مَا یَقطَعُ الصَلَاۃ وَمَا لَا یَقطَعُھَا (بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

712.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْحِمَارِ وَالْكَلْبِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ

سنن ابو داؤد:

کتاب: ان چیزوں کی تفصیل جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نماز نہیں ٹوٹتی 

  (

باب: ان کے دلائل جو قائل ہیں کہ عورت کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

712.   ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ تم لوگوں نے برا کیا کہ ہمیں (یعنی عورتوں کو) گدھے اور کتے کے برابر کر دیا ہے۔ بلاشبہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے اور میں آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ آپ ﷺ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو دبا دیتے، میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی پھر آپ ﷺ سجدہ کرتے۔