قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ (بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

884.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَوْقَ بَيْتِهِ وَكَانَ إِذَا قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى قَالَ سُبْحَانَكَ فَبَكَى فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ أَحْمَدُ يُعْجِبُنِي فِي الْفَرِيضَةِ أَنْ يَدْعُوَ بِمَا فِي الْقُرْآنِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل 

  (

باب: نماز میں دعا کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

884.   جناب موسیٰ بن ابی عائشہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ گھر کی چھت پر نماز پڑھاتے تھے۔ تو جب وہ (سورۃ القیامہ کی آخری آیت) «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» ”کیا اللہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے؟“ پڑھتے تو (جواب میں) کہتے «سبحانك فبلى» ”اے اللہ! تو پاک ہے، تو یقیناً قدرت رکھتا ہے۔“ لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ امام احمد ؓ کا کہنا ہے کہ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ فرض نمازوں میں قرآنی دعائیں کی جائیں۔