قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

90.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ لَا يَؤُمُّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصُّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يَنْظُرُ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ دَخَلَ وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: پیشاب پاخانہ کی حاجت ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

90.   سیدنا ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین کام کسی کو روا نہیں ہیں۔ یعنی کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا نہ کرے۔ اگر ایسا کیا تو ان سے خیانت کی۔ اجازت ملنے سے پہلے ہی کسی کے گھر کے اندر نہ جھانکے۔ اگر ایسا کیا تو گویا (بغیر اجازت) اندر داخل ہوا۔ کوئی شخص پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ فراغت حاصل کر لے۔‘‘