موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ)
حکم : صحیح
1022 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ يَعْنِي رَبَّهُ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَعِيلُ يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَدْلُكُهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: نماز کے دوران میں بلغم تھوکنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1022. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مسجد کی قبلے والی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا۔ آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایک آدمی رب کی طرف متوجہ ہو کر کھڑا ہوتا ہے، پھر اپنے سامنے بلغم تھوک دیتا ہے؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کے سامنے آ کر اس کے چہرے پر تھوک دیا جائے؟ جب کسی کو تھوکنا ہو تو اپنی بائیں طرف تھوک لے یا اپنے کپڑے میں اس طرح کر لے۔‘‘ (امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ کے استاد سیدنا ابو بکر بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:) امام اسماعیل ابن علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے (اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے یوں کر کے دکھایا کہ) کپڑے میں تھوکا، پھر کپڑے کو مل دیا۔