موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِمَاعِ لِلْخُطْبَةِ وَالْإِنْصَاتِ لَهَا)
حکم : صحیح
1111 . حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَبَارَكَ وَهُوَ قَائِمٌ فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبُو ذَرٍّ يَغْمِزُنِي فَقَالَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ اسْكُتْ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ فَلَمْ تُخْبِرْنِي فَقَالَ أُبَيٌّ لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ أُبَيٌّ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: خطبہ توجہ کے ساتھ خاموشی سے سننا چاہیے
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1111. حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعے کے دن کھڑے ہو کر (خطبے کے دوران میں) سورہٴ تبارک (الملک) تلاوت فرمائی، اور اللہ کے ایام (اور ماضی کے سچے واقعات) کے ذریعے سے ہمیں نصیحت فرمائی۔ سیدنا ابو درداء ؓ یا سیدنا ابو ذر ؓ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر کے کہا: یہ سورت کب نازل ہوئی؟ میں نے تو اب (پہلی بار) سنی ہے۔ انہوں نے اشارے سے کہا: خاموش! نماز سے فارغ کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی، آپ نے بتایا ہی نہیں۔ سیدنا اُبی ؓ نے فرمایا: آپ کو آج نماز میں سے صرف یہی حصہ ملا ہے کہ آپ نے فضول گوئی کی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا اور سیدنا ابی ؓ کی بات بھی بتائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابی نے درست کہا ہے۔‘‘