قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1179 .   حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ الْوِتْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: (نماز)وتر میں دعائے قنوت کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1179.   حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتروں کے آخر میں یوں (دعا) فرماتے تھے: (اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِى ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ) ’’اے اللہ! میں تیری ناراضی سے بچتے ہوئے تیری خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے بچتے ہوئے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور میں تجھ سے ( تیرے غیض و غضب سے) تیری ( رحمت کی) امان چاہتا ہوں میں تیری تعریفیں شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی صفات بیان فرمائی ہیں۔‘‘