قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ سَاهِيًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1213.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتْ أَمْ نَسِيتَ قَالَ مَا قَصُرَتْ وَمَا نَسِيتُ قَالَ إِذًا فَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَالَ أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا نَعَمْ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: دو یا تین رکعت پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دینا؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1213.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھول کر دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا۔ ایک آدمی جسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: اگر یہ بات ہے تو (عرض یہ ہے کہ) آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کیا جس طرح ذوالیدین کہتا ہے (ویسے ہی ہوا ہے؟‘‘) صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ تب نبی ﷺ نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔