قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1417 .   حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ - أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ - ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، قَالَ: «فَحَنَّ الْجِذْعُ - قَالَ جَابِرٌ - حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ» ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: سب سے پہلے منبر کیسے بنا ؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1417.   حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک درخت کی جڑیا فرمایا ایک درخت کے تنے کے قریب کھڑے ہوتے تھے پھر آپ نے منبر بنوا لیا تو تنا رونے لگا حتی کہ مسجد میں موجود لوگوں نے اس کی آواز سنی (وہ روتا رہا) حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے پاس آ کر اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ ایک آدمی نے کہا: اگر آپ ﷺ اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔