قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ)

حکم : ضعیف جداً

ترجمۃ الباب:

1462.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا، وَكَفَّنَهُ، وَحَنَّطَهُ، وَحَمَلَهُ، وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ، مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : میت کو غسل دینے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1462.   حضرت علی ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میت کو غسل دیا، کفن دیا، خوشبو لگائی اور اسے اٹھایا (قبرستان کو لے جاتے ہوئے اس کی چار پائی کو کندھا دیا) اس کا جنازہ پڑھا، اس کی جو چیز نظر آئی (جو ظاہر کرنے کے قابل نہ ہو) اسے ظاہر نہ کیا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جس طرح اپنی ماں کے ہاں پیدا ہونے کے دن( گناہوں سے پاک صاف) تھا۔‘‘