قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1513 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَجَعَلَ «يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ، وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ، يُرْفَعُونَ وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : شہداء کے جنازے اور تدفین کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1513.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: غزوہٴ احد کے دن شہداء کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ان میں سے دس دس افراد کا جنازہ ادا کرنے لگے۔ حضرت حمزہ ؓ جہاں تھے وہیں رہے (ان کی میت سامنے رہی) دوسروں کی میتیں اٹھالی جاتی تھیں اور حضرت حمزہ ؓ کی میت جیسے تھى، ویسے ہی ( سامنے ) پڑی رہتی تھی۔