موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ)
حکم : صحیح
1599 . حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ، وَرَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب : مصیبت پر صبر کرنے کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1599. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے (آخری مرض کے ایام میں ایک دن) وہ دروازہ کھولایا پردہ ہٹایا جو آپ کے اور (مسجد میں نماز پڑھنے والے) لوگوں کے درمیان حائل تھا۔ دیکھا تو لوگ ابو بکر ؓ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے انہیں اس اچھے حال میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا (کہ اللہ کی عبادت مشغول ہیں۔) آپ کو یہ امید ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ (کی وفات) کے بعد بھی ان کو ایسے ہی (اچھے) حال میں رکھے گا جو آپ ﷺ نے ملاحظہ فرمایا، پھر فرمایا: ’’اے لوگو! جس شخص کو۔‘‘ یا فرمایا: ’’جس مومن کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ کسی دوسرے کی (وفات کی) وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کا غم ہلکا کرنے کے لیے میری (وفات کی) وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کو یاد کر لے کیوں کہ میری امت کے کسی فرد کو میری (وفات کی) مصیبت سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی۔‘‘