موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ مِنْ نَذْرٍ)
حکم : صحیح
1758 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ وَالْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَطَاءٍ وَمُجاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت
باب: جس شخص کے ذمے نذر کے روزےہوں اور(قضادینے سے پہلے)اس کی وفات ہو جائے تو؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1758. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ہمشیرہ فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمے مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بھلا اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ ‘‘ اس نے کہا: جی ہاں (ضرور ادا کرتی۔) آپ نے فرمایا: ’’پھر اللہ کا حق (ادائیگی کا) زیادہ مستحق ہے۔‘‘