قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1948.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ» ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ، أَوْ يَمِينُكِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دودھ کا تعلق مرد سے بھی ہوتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1948.   ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے رضاعی چچا حضرت افلح بن ابو قعیس ؓ نے آ کر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، اس وقت پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ چنانچہ میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ (میں نے واقعہ عرض کیا) تو نبی ﷺ نے فرمایا: وہ تیرے چچا ہیں، انہیں اجازت دو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو نہیں پلایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرے ہاتھ کو مٹی لگے۔ یا تیرے دائیں ہاتھ کو مٹی لگے۔