موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الرَّجُلُ يَشُكُّ فِي وَلَدِهِ)
حکم : حسن صحیح
2003 . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَاءَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطُّ، قَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فِيهَا أَوْرَقُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟» قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: «فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: اگر آدمی کو اپنی اولاد میں شک ہو
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2003. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک خانہ بدوش نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عورت کے ہاں، میرے نکاح میں رہتے ہوئے، سیاہ فام لڑکا پیدا ہوا ہے اور ہمارے خاندان میں کبھی کوئی سیاہ فام نہیں تھا۔ (ہمارے ننھیال و ددھیال سب سفید فام ہیں۔) تو نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: وہ کس رنگ کے ہیں؟ کہا: سرخ ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی سیاہ بھی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: وہ کیسے ہو گیا؟ اس نے کہا: شاید کسی (دادا پردادا یا نانا وغیرہ) کا خون غالب آیا ہے؟